بول اور ایگزیکٹ اسکینڈل: تصویر کا ایک رخ یہ بھی
ہے
نیو یارک ٹائمزکی پاکستانی آئی ٹی اور سوفٹ ویئر کمپنی ایگزیکٹ کے متعلق رپورٹ
آنے کے بعدگذشتہ تین روز سے ملک بھر میں ایک ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ کچھ اخبارات اور
ٹی وی چینلز نے اپنی معمول کی تمام سرگرمیاں معطل کردی ہیں اور انکا موضوع صرف اور
صرف ایگزیکٹ اور اس کا میڈیا ہاؤس بول بنا
ہوا ہے۔ روزنامہ جنگ میں تو آج دوسرے دن بھی پہلا صفحہ صرف ایگزیکٹ کی خبروں سے
بھرا ہوا تھا۔
بحیثیت سوفٹ وئر کمپنی ،آئی ٹی فرم اور ایک تعلیمی اسناد سے
متعلق کاروبار کرنے والے ادارے ایگزیکٹ نے جو بھی غلط کام کئے ہوں یا نہ کئے
ہوں یہ باریک بینی سے تحقیقات کے بعد سامنے آجائے گا اور پھر انکے خلاف قانونی
کارروائی کا بھی امکان ہے۔ تاہم یہاں ہم تصویر کا ایک اور رخ پیش کررہے ہیں۔ ملحوظ
خاطر رہے کہ یہ ادارہ ایک میڈیا ہاؤس کا بھی مالک ہے جس کا نام بول ہے۔ یہی ادارہ
چند روز کے اندر بول نام سے اپنا ٹی وی چینل بھی شروع کرنے والا تھا جو شائد اب
تاخیر کا شکار ہوجائے۔ پاکستان بھر کے عوام جانتے ہیں کہ یہ وہ واحد ٹی وی چینل ہے
جو ابھی لانچ بھی نہیں ہوا لیکن ہر جگہ اسکی دھوم مچ چکی ہے۔ ادارے کی جانب سے
دعوی کیا گیا ہے کہ یہ پاکستان کا سب سے بڑا ٹی وی چینل ہوگا۔ انکے اس دعوے کو اس
حقیقت سے بھی تقویت ملتی ہے کہ چینل کے شروع ہونے سے پہلے ہی پاکستان کے ذرائع
ابلاغ سے تعلق رکھنےوالے بہت بڑے ناموں کو یہ ادارہ خرید چکا ہے جن میں کامران خان بھی
شامل ہیں جو جیو اور جنگ کی شان ہوا کرتے تھے۔ ان کے علاوہ افتخار احمد، عاصمہ
شیرازی، وجاہت ایس خان، نصرت جاوید، جیسمین منظور وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں۔ حیدر
امام رضوی جیسے بہت بڑے نام بھی بول کی ٹیم کا حصہ ہیں اور انکے ساتھ بلبلے فیم
نبیل اور رانا رضوان بھی موجود ہیں۔ الغرض خبروں اور تفریح کی دنیا کے تمام بڑے
نام بول نیٹ ورک اپنی طرف کھینچ چکا ہے۔
ایسے ٹی وی چینل کی میدان میں آمد ظاہر ہے کہ بڑے ناموں
مثلا جیو، ایکسپریس اور اے آر وائی وغیرہ کیلئے خطرے کی گھنٹی بن چکی ہے لہذا اس
نووارد ٹی وی چینل کومقابلے سے باہر رکھنے کیلئے میڈیا کے یہ قدآور ادارے کچھ بھی
کر سکتے ہیں۔ شائد کچھ لوگ اس بات سے اختلاف کریں لیکن یہ اس وقت سچ لگنے لگتی ہے
جب ٹی وی ناظرین جیو اور دوسرے چینلز پر
اور انکے اخبارات میں سوائے ایگزیکٹ پر
منفی رپورٹنگ اور خبروں کے اور کچھ نہیں دیکھتے۔ اس رپورٹنگ میں بعض اوقات دلی
خواہشات کو بھی خبر بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اور خبر کے بجائے کردار کشی پر زیادہ
زور ہے۔ اگر کچھ لوگ پھر بھی اس بات سے اختلاف رکھتے ہیں کہ جیو اور دوسرے طاقتورادارے اس چینل کو میدان سے باہر رکھنے کیلئے کچھ منفی
بھی کرسکتے ہیں تو ان کیلئے ماضی کے کچھ اوراق پلٹنے کی ضرورت ہے۔آیئے آپ کو اس
حقیقت سے آگاہ کریں کہ روزنامہ جنگ پاکستان کا نمبر ایک اخبار کیسے بنا۔
پچاس اور ساٹھ کے عشرے میں پاکستان کی اخباری صنعت
پرروزنامہ انجام اور حریت چھائے ہوئے تھے۔ جنگ کے مالک میر خلیل الرحمان صاحب
مرحوم اس تگ و دو میں تھے کہ کس طرح جنگ کو پہلے نمبرپر لایا جائے لیکن انجام اور
حریت کی موجودگی میں یہ ایک بہت مشکل کام تھا۔ لہذا میرخلیل الرحمان اور انکے مصاحبین نے ایک ترکیب ایجاد کرہی لی۔ انہوں
نے ہاکرز کو خریدا اور انہیں یہ ہدایت کردی کہ جن گھروں میں انجام لگا ہوا تھا
وہاں صبح سویرے روزنامہ جنگ پھینکا جائے۔
چونکہ علی الصبح ہاکر کو پکڑنا آسان کام
نہیں ہوتا لہذا قاری کو مہینے بھر جنگ پڑھنا پڑتا۔ جب نیوز ایجنسی جا کر معلوم کیا
گیا تو انہیں یہ بتایا گیا کہ انجام وقت پرنہیں چھپ رہا ہے۔ دوسری جانب یہ کیا گیا
کہ انجام کے بنڈل ہاکرز سے خرید لئے جاتے اور انہیں نذر آتش کردیا جاتا جس کی بنا
پر مالکان اور ادارے کو خبر ہی نہیں ہوپاتی کہ ان کا اخبار مارکیٹ سے غائب ہے۔ اس
کا نتیجہ یہ نکلا کہ آہستہ آہستہ انجام اپنے انجام کو پہنچنا شروع ہوا۔ میر صاحب
مرحوم نے نہ صرف نیوز ایجنسیوں کو لالچ دیکر اپنے ساتھ ملا لیا تھا بلکہ اپنی ذاتی نیوز ایجنسیاں بھی قائم کرلیں تھیں ۔ تاہم ابھی بھی میر صاحب کو اطمینان نہیں ہوا تھا اسلئے اعلی سرکاری حکام کو اپنے ساتھ ملا کر محمدعثمان
آزاد جو انجام کے مالک تھے کی کردار کشی
کی مہم شروع کردی۔ کہا جاتا ہے کہ میر خلیل الرحمان نے اس وقت کے آمر مطلق صدر
ایوب سے ساز باز کرکے انجام کا پریس ضبط کروا دیا تھا جسکے صدمے سے آزاد صاحب
جانبر نہ ہو سکے۔
انجام کے
بعد اب حریت ان کا حریف باقی بچا تھا ۔ اسکے لئے بھی وہی حربے استعمال کئے گئے۔
روزانہ علی الصبح ہاکرز کو جنگ دے کران سے حریت کی تمام کاپیاں خرید لی جاتیں اور
انہیں لانچوں میں لاد کر سمندر برد کردیا جاتا۔ حریت کے مالکان خوش ہوتے رہے کہ حریت کی ایک بھی کاپی
مارکیٹ سے واپس نہیں آرہی تھی اور جب تک انہیں حقیقت حال سے آگاہی ہوئی اس وقت تک
انکی کشتی ڈوب چکی تھی۔
جنگ نے جس
طرح منفی ہتھکنڈوں سے اپنے حریفوں کو ٹھکانے لگا کر اپنے آپ کو پاکستان کا سب سے
بڑا اردو روزنامہ بنا لیا ان واقعات کو
جاننے کے بعد عوام اس بات کا شک کرنے میں حق بجانب ہیں کہ بول ٹی وی نیٹ ورک کے
ساتھ بھی انتہائی چالاکی کے ساتھ وہی کام کیا گیا ہے جوانجام اور حریت کو اپنے
راستے سے ہٹانے کیلئے کیا گیا تھا۔ آج کا دور برق رفتار مواصلات کا دور ہے اور
کاروبار میں تو ذرا سی کوتاہی یا تاخیر بہت بڑے نقصا ن کا سبب بن سکتی ہے۔ اور یہی
بات میر شکیل الرحمان بھی جانتے ہیں اور وہ اپنے والد مرحوم سے بہت کچھ سیکھے ہوئے
بھی ہیں تو وہ کیوں کوئی کوتاہی یا ایسی تاخیر
کرینگے کہ انکے والد کی سخت محنت کو کوئی دھچکہ پہنچے اور کوئی نیا چینل اٹھے اور
انکی شاندار ایمپائر کو چیلنج کرنے لگے۔
حرف آخر یہ کہ ایگزیکٹ مجرم ہے یا نہیں ہے،اس کا
فیصلہ وقت کرے گا لیکن روزنامہ جنگ جس شدومد کے ساتھ ایگزیکٹ اور بول کے خلاف مہم
چلا رہا ہے اس سے اور نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ کی ٹائمنگ کو دیکھتے
ہوئے اس شبہے کو تقویت ملتی ہے کہ جنگ جیو گروپ نے اپنے اجداد کے دیئے ہوئے سبق پر
عمل کیا ہے کہ کاروبار میں سب جائز ہے۔ نیویارک ٹائمز میں اس کہانی کو شائع کرانے
میں اگر چہ نیویارک ٹائمز کی بدنیتی کو دخل نہیں ہو گا لیکن اس میں کہیں نہ کہیں
جنگ/جیو کا ہاتھ ضرور ہو سکتا ہے جو اگلے
چند دنوں میں بول ٹی وی کی لانچنگ سے سخت خوفزدہ تھا۔
ہم ہرگز
اس بات پر اصرار نہیں کریں گے کہ ایگزیکٹ کو تحقیقات سے پہلے ہی پاکیزگی کی سند
عطا کردی جائے۔ ہمارا مؤقف یہی ہے کہ اس معاملے کی انتہائی اعلی سطح پر تحقیقات کی
جائے اور تحقیقات میں اس نکتے پر بھی توجہ دی جائے کہ کہیں یہ ایک اور بی سی سی
آئی اسکنڈل تو نہیں ہے کیونکہ نیو یارک ٹائمز کا اس معاملے میں ملوث ہونا ایسے کئی شبہات کو جنم دیتا ہے۔ اور اگر ایسا
کچھ ہے تو ان اداروں اور افراد کو بھی شامل تفتیش کیا جائے جنہیں ایگزیکٹ اور بول
کے نقصان سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اسکے علاوہ بات بھی شبہات کو تقویت دے رہی ہے کہ
ایک غیر ملکی اخبار کی خبر پر چند گھنٹوں کے اندر حکومت پاکستان نے اس قدر تیزی سے
ایکشن لیا ہے لیکن جانے پہچانے مجرموں اور دہشتگردوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں
ہورہی جو لال مسجد اور بدین میں ریاست کے اندر ریاست قائم کئے بیٹھے ہیں اور بڑی
باقاعدگی سے ریاست کی عملداری کو چیلنج کرتے رہتے ہیں۔
آخر میں ہم متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین کی اس بات کا اعادہ بھی کریں گے کہ اگر ایسا کچھ ہورہا تھا تو پاکستان کے انتہائی حساس ترین اداروں کی اتنے بڑے اور گھناؤنے فراڈ سے لاعلمی نہ صرف افسوسناک بلکہ تمام محب وطن پاکستانیوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ ہمارے مقتدر اداروں کو جناب الطاف حسین کی اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
آخر میں ہم متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین کی اس بات کا اعادہ بھی کریں گے کہ اگر ایسا کچھ ہورہا تھا تو پاکستان کے انتہائی حساس ترین اداروں کی اتنے بڑے اور گھناؤنے فراڈ سے لاعلمی نہ صرف افسوسناک بلکہ تمام محب وطن پاکستانیوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ ہمارے مقتدر اداروں کو جناب الطاف حسین کی اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
Vishal Nain

